SURAH AL-BAQARAH RUKU. 3


"ASSALAMU ALAIKUM, WELCOME BACK TO OUR QURANIC SERIES DAY 3. SO, GUYS TODAY WE'LL EXPLORE SURAH AL-BAQARAH, RUKU 3, AYAT 21-29.

TARJUMA &TAFSEEL:

آیت 21: يَا أَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱعْبُدُوا رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُمْ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

ترجمہ: اے لوگوں! اپنے رب کی عبادت کرو، جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

تفصیل: یہ آیت اللہ کی عبادت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو پیدا کیا اور ان پر اس کی   عبادت   فرض ہے۔  عبادت سے مراد صرف نماز نہیں، بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی رضا کا طالب ہونا ہے۔

آیت 22: ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ فِرَاشًۭا وَٱلسَّمَاءَ بِنَاءًۭ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَاءًۭ فَأَخْرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَاتِ رِزْقًۭا لَّكُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًۭا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا، اور آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے تمہارے لیے پھل نکالے، لہذا اللہ کے لیے شریک نہ بناؤ، حالانکہ تم جانتے ہو۔

تفصیل: یہ آیت اللہ کی نعمتوں کا ذکر کرتی ہے، کہ اس نے زمین اور آسمان کو انسان کی خدمت کے لیے بنایا اور انہیں مختلف رزق فراہم کیا۔ یہ لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دیتی ہے۔

آیت 23: وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِۦ وَٱدْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

ترجمہ: اور اگر تمہیں اس کتاب کے بارے میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے، تو ایک سورۃ ہی کی مانند لے آؤ، اور اللہ کے سوا جن کو تم بلا سکتے ہو، ان کو بھی بلا لو، اگر تم سچے ہو۔

تفصیل: یہ آیت قرآن کی صداقت کا چیلنج کرتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر کوئی قرآن کی سچائی میں شک کرتا ہے تو وہ ایک سورۃ لانے کی کوشش کرے، یہ اس کی قدرت کا معجزہ ہے۔

آیت 24:  فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ

ترجمہ: پھر اگر تم ایسا نہ کرسکو اور کبھی بھی ایسا نہ کرسکو گے، تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

تفصیل: یہ آیت کفار کو قرآن کریم کے ایک سورۃ کی مثل لانے کی دعوت دینے کے بعد ہے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تم  ایسا نہ کر سکو (اور کبھی نہ کر سکو گے)، تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، جو کافروں کے   لیے تیار کی گئی ہے۔ اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قرآن کریم کا معجزہ ہمیشہ کے لیے ہے اور اس کی مثل   کوئی نہیں لا سکتا۔ کفار کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ دوزخ کی آگ سے بچنے کی کوشش کریں، جو ان کے لیے تیار کی گئی ہے۔

اس آیت کی تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی عظمت اور اس کی طاقت ناقابل تسخیر ہے، اور اس کو   جھٹلانے والے سخت عذاب کا سامنا کریں گے۔

آیت 25:  وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقًا قَالُوا هَٰذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا ۖ وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

ترجمہاور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، انہیں خوشخبری دے دو کہ ان کے لیے باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ جب بھی انہیں وہاں سے کوئی پھل دیا جائے گا، وہ کہیں گے: یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے دیا گیا تھا، اور انہیں اس جیسی اور چیزیں دی جائیں گی، اور ان کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی، اور وہ ہمیشہ ان میں رہیں   گے۔

تفصیلیہ آیت مومنین کے لیے جنت کی خوشخبری ہے جہاں انہیں ہر طرح کی نعمتیں اور پاکیزہ بیویاں ملیں گی، اور وہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔

آیت 26:  إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَسْتَحْىِۦٓ أَن يَضْرِبَ مَثَلًۭا مَّا بَعُوضَةًۭ فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَيَقُولُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَـٰذَا مَثَلًۭا ۘ يُضِلُّ بِهِۦ كَثِيرًۭا وَيَهْدِى بِهِۦ كَثِيرًۭا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِۦٓ إِلَّا ٱلْفَـٰسِقِينَ

ترجمہ: بے شک اللہ کسی چیز سے نہیں شرماتا، چاہے ایک مچھر ہی کیوں نہ ہو، بلکہ اس سے بڑھ کر بھی۔ اور وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے، جبکہ وہ لوگ جو کافر ہیں، کہتے ہیں: اللہ کا اس مثال سے کیا مطلب ہے؟ اس سے اللہ بہت سوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے، اور اس سے گمراہ نہیں کرتا مگر فاسقوں کو۔

تفصیل: یہ آیت بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالی مخلوقات کی مثالیں دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، چاہے وہ مچھر ہو یا  اس سے بڑھ کر کچھ اور۔ مومنین ان مثالوں کو اللہ کی حکمت سمجھ کر قبول کرتے ہیں، جبکہ کافر ان پر اعتراض  کرتے ہیں۔ اللہ ان مثالوں کے ذریعے مومنین کی ہدایت اور کافروں کی گمراہی ظاہر کرتا ہے۔


آیت 27: ٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مِيثَـٰقِهِۦ وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ

ترجمہ: اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو توڑتے ہیں، اور وہ عہد جسے اللہ نے پختہ کیا ہے، اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔

تفصیل: یہ آیت ان لوگوں کی حالت بیان کرتی ہے جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اور فساد پیدا کرتے ہیں، ان کے لیے ناکامی کا ذکر کیا گیا ہے۔

آیت 28: كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِٱللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَٰتًۭا فَأَحْيَـٰكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

ترجمہ: تم کس طرح اللہ کا کفر کر سکتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے، پھر اس نے تمہیں زندہ کیا، پھر تمہیں مار دے گا، پھر تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

تفصیل: یہ آیت اللہ کی قدرت کو بیان کرتی ہے کہ وہ موت اور زندگی کا مالک ہے، اور سب کو اپنے سامنے حاضر کرے گا۔

آیت 29: هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ لَكُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا ثُمَّ ٱسْتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ فَسَوَّىٰهُنَّ سَبْعَ سَمَـٰوَٰتٍۢ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ

ترجمہ: وہی تو ہے جس نے جو کچھ زمین میں ہے، سب کچھ تمہارے لیے پیدا کیا، پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا، اور اسے سات آسمان بنایا، اور ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

تفصیل: یہ آیت اللہ کی تخلیق کی عظمت کو بیان کرتی ہے، کہ اس نے زمین اور آسمان کی تخلیق کی، اور اس کی علم کا ذکر کیا ہے جو ہر چیز پر محیط ہے۔

WAJAE NAZOOL :

سورۃ البقرہ، رکوع 3، آیات 21-29 میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنے رب کی عبادت کرنے کی دعوت دی ہے، جو انہیں ہر چیز عطا کرتا ہے اور ان کی نشوونما کا ذریعہ ہے۔

یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب لوگ اللہ کی عبادت اور اس کی حکمتوں کو بھول چکے تھے اور دنیاوی امور کی طرف زیادہ متوجہ تھے۔ کچھ مفسرین کے مطابق یہ آیات مکہ کے مشرکین پر نازل ہوئیں، جو اللہ کی توحید سے غافل ہوگئے تھے۔

ان آیات کا مقصد لوگوں کو یاد دلانا ہے کہ انہیں اللہ کی طرف لوٹنا چاہیے اور اپنی زندگی کا اصل مقصد سمجھنا چاہیے۔ اللہ اپنی قدرت، خدائی اور انسانیت کی اصل ضرورت کو بیان کر رہے ہیں۔

یہ آیات اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کو اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور آخرت کا خیال رکھنا چاہیے۔ اللہ نے ہر چیز کو بہترین طریقے سے پیدا کیا ہے، اور ان آیات میں اللہ کی حکمت اور قدرت کا بیان موجود ہے۔

ان کا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگ اللہ کے نظام کائنات کو سمجھیں اور اللہ کے سامنے جھک کر عبادت کریں۔

   💗.SO, GUYS AJ KAE LIYAE ITNA HI NEXT POST TAK KAE LIYAE ALLAH HAFIZ

Comments

Post a Comment

Popular Posts